اِس جہاں کی جھپکی میں خیال خام خوفناک ہیں بہت
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiاِس جہاں کی جھپکی میں خیال خام خوفناک ہیں بہت
واجب الوصُول وہم ہیں سارے حالتیں ہولناک ہیں بہت
دلوں کی سوداگری میں عہد و پیمان بھی ضروری نہیں
کچھ مخمور متفکر ہیں کہ نبھاؤ یہاں غضبناک ہیں بہت
سب زمانے کی کارگری، کل ودیا سے کوئی نہیں گذرا
قہقہوں کو قریب سے دیکھو رنج اَلم المناک ہیں بہت
نہ چیخو اُجرت لیئے شوق دل کا اَجر نہیں ہوتا
حق کیلئے بھل آواز اٹھے، باقی دراڑیں دھشتناک ہیں بہت
رُخ رک جاتے ہیں سبھی جب پلکیں پئمان تولتی ہیں
غالب ہو یا گرفت رہو آنکھیں یہ عجبناک ہیں بہت
تپش حسرتیں کبھی کبھی کناروں سے بھی گذرتی ہیں
سمندر کا مزاج کہتا ہے، پیاسے بھی اب چالاک ہیں بہت
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






