تقدیر ترچھی رہی تو دعائیں شفا نہیں کرتی
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiتقدیر ترچھی رہی تو دعائیں شفا نہیں کرتی
مقدر ہی متضاد میرا، خدائی خطا نہیں کرتی
ہماری رضا ہے کہ تو جہاں رہے آباد رہے
میری صدائیں بھی کسی کو برباد نہیں کرتی
پیار پر اعتبار ممکن ہوتا تو اور کیا چاہیے
یہ وہم پرستی کہ اپنا بھی خیال نہیں کرتی
میں برسوں کا گرا پتہ بنجر پہ پڑا ہوں
کہ میرے بھٹکنے کا بھی ہوا داد نہیں کرتی
میں واعظ ہوکر آج بھی کہہ سکتا ہوں
عشق تو جنون ہے، محبت تباہ نہیں کرتی
رخیاں دھڑکن دیتی ہیں اور نظریں قتل
جس طرح نگاہ نے مارا وہ اَدا نہیں کرتی
ہو سکتا ہے کہ اک دن خوشحال ہو جائیں سنتوشؔ
لیکن میری قسمت بھی مجھے دُعا نہیں کرتی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






