اِس خط میں میرا اظہار تڑپتا ہے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiاِس خط میں میرا اظہار تڑپتا ہے
لفظ لفظ یوں ہر بار تڑپتا ہے
لکھی جو قلم کی نوک نے عبارتیں
انہیں گیتوں کا گفتار تڑپتا ہے
کپکپاتی انگلیوں میں کبھی قلم بہکا تھا
فکر تشویش خود قلم کار تڑپتا ہے
ائے وقت غریبی تجھ پر تہمت تو نہیں
مگر تیری بیپرواہی سے سنسار تڑپتا ہے
جگتے ستاروں کے ساتھ دیئے بھی جلتے ہیں
کھلے دریچوں میں ایسے انتظار تڑپتا ہے
تیری الجھن میں جو سو نہ سکا اک پل بھی
اُسی ہی شخص کا آج، انتشار تڑپتا ہے
اے! زمانہ تیری شفقت میں بھی سنتوش
بے ترس لوگوں کیلئے کوئی بیکار تڑپتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






