مجھے کوئی جان کر کیا کرے گا
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiمجھے کوئی جان کر کیا کرے گا
خود پہ خلل ڈال کر کیا کرے گا
تمہیں تو کوئی لمحہ لغزش نہیں دیتا
پھر یوں وقت ٹال کر کیا کرے گا
یہاں سنی نہیں جاتی صدا کسی کے
تو اتنے ستم پال کر کیا کرے گا
بدمستی میں ہی بسی ہے دنیا!
اپنا تن سنبھال کر کیا کرے گا
جہاں عمل کوئی ترتیب ہی نہیں
وہاں تو تسلسل لاکر کیا کرے گا
مزاج ہی پہلو پالیتے ہیں سنتوشؔ
تو پھر آنکھیں ملاکر کیا کرے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






