اِس قدر مجھ کورُلاتے کیوں ہو
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreاِس قدر مجھ کو رُلاتے۔۔۔۔۔ کیوں ہو
جانِ من اتنا ستاتے۔۔۔۔۔۔ کیوں ہو
تم میرے خانہءِدل میں۔۔۔۔ ۔آکر
اپنی تصویر سجاتے ۔۔۔۔۔۔۔کیوں ہو
عمر بھر اب یہیں رہنا ہے۔۔ ۔تمہیں
دل میرا توڑ کے جاتے ۔۔۔۔کیوں ہو
عمر بھرساتھ نِبھاناہے۔۔۔۔ ۔ہمیں
اِس طرح چھوڑ کے جاتے۔۔ کیوں ہو
جب نہیں کوئی تعّلق۔۔۔۔ مجھ سے
تم میرے خواب میں آتے ۔کیوں ہو
ہم تو ہیں نیند کے مارے ہؤے لوگ
تم ہمیں خواب دِکھاتے۔۔۔کیوں ہو
جب نہیں چارہ گری کی۔۔۔۔۔ اُمیّد
حالِ دل اُن کو سناتے۔۔۔۔ کیوں ہو
اِس سے ہوتی ندامت۔۔۔۔۔ اُن کو
وعدہ بھی یاد دلاتے ۔۔۔۔۔کیوں ہو
اُن کے دیکھے سے بھڑک اُٹھیں گے
داغ سینے کے دِکھاتے ۔۔۔کیوں ہو
جب کہ ہے غیر سے اُلفت۔۔ اُن کو
تم اُنہیں اپنا بناتے۔۔۔۔۔ کیوں ہو
ہم کسی اور کو دیکھیں۔۔۔۔ کیونکر
ساقیا اتنی پلاتے ۔۔۔۔۔۔کیوں ہو
ہم نے مانا کہ ہیں۔۔۔ گہری چوٹیں
اِس قدر شور مچاتے۔۔۔۔ کیوں ہو
جب کہ ہے خوف تمہارے دل میں
کشتیاں اپنی جلاتے۔۔۔۔ کیوں ہو
لوگ ویسے بھی تو۔۔ مر جاتے ہیں
تم ہمیں اتنا ڈراتے ۔۔۔۔کیوں ہو
تونے کیاعشق کیا ہے۔۔۔۔۔ ساقی
پھر ہمیں خوف دلاتے۔۔ کیوں ہو
گر نہیں جھوٹ تو اے ۔۔جانِ وفا
بات کو اتنا گھُماتے۔۔۔۔ کیوں ہو
گر یہی عشق کا حاصل ہے ۔۔وسیم
خاک میں مجھ کو ملاتے۔۔ کیوں ہو
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






