اِس گھر کی زیارت کی خاطر پھر غیر بھی آنے لگتے ہیں
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreاِس گھر کی زیارت کی خاطر پھر غیر بھی آنے ۔۔۔۔۔۔۔لگتے ہیں
جب کعبہءِ دل میں ہم تیری تصویر سجانے۔۔۔۔۔۔۔۔ لگتے ہیں
میں جانتا ہوں یہ خواب ہیں سب اور اِن کی حقیقت کچھ بھی نہیں
جو خواب تمہارے دم سے ہیں وہ خواب سہانے ۔۔۔۔۔لگتے ہیں
قاصد نے کہا جب حال میرا بولےکہ نہیں یہ ۔۔۔جھوٹ سب
باتیں یہ پرانی لگتیں ہیں قصے یہ پرانے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لگتے ہیں
دیکھو تو ہماری سادہ دلی ازراہِ تکلّف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محفل میں
وہ پوچھتے ہیں تم کیسے ہو ہم شعر سنانے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لگتے ہیں
وہ ظلم ہے مجھ پہ اُن کا روا جب سوچتا ہوں میں۔۔۔ ترکِ وفا
دیکھے تو کوئی یہ اُن کی ادا وہ پیار جتانے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لگتے ہیں
مجنوں نے نبھایا عہدِ وفابس اِتنی بات ہی۔۔۔۔۔۔۔۔ سچّی ہے
لیلٰی نے بھرا دم اُلفت کا مجھ کو تو فسانے۔۔۔۔۔۔۔۔ لگتے ہیں
کیا پوچھتے ہو درویشوں کا کیا حال ہے تیری۔۔۔۔۔ ۔دنیا میں
دو بول پیار محبّت کے ہم کو تو خزانے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔لگتے ہیں
جانے کب اَیسا شعر کہوں جو تیری شان کے۔۔۔۔ شایاں ہو
پتھر کو ہیرا ہونے میں کتنے ہی زمانے ۔۔۔۔۔۔۔۔لگتے ہیں
جب رات کے پردے گرتے ہیں جب سارا عالم۔ سوتا ہے
کچھ زخم تمہاری چاہت کے اُٹھ اُٹھ کے جگانے ۔۔لگتے ہیں
جب اُس نے سنی یہ میری غزل تو کہنے لگا وہ ۔۔۔محفل میں
کچھ چوٹیں تازہ لگتی ہیں کچھ درد انجانے ۔۔۔۔۔۔لگتے ہیں
سب مہربان ساتھیوں کو بہت بہت عید مبارک
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






