حشر میں ڈُھونڈ کے اُن کو کہا آداب جناب
Poet: شہزاد قیس By: Shahzad Qais, لاہورحشر میں ڈُھونڈ کے اُن کو کہا آداب جناب
خوب آنچل کو نہ پا کر ہُوئے آب آب جناب
آپ کے منہ سے تو جھڑنے لگے گُل گالی کے
ہم کسی اور کو بتلائیں گے یہ خواب جناب
حشر سے بھی ہے فُزوں ، کُوچۂ لیلیٰ کا جُنوں
قتل ہوتے ہیں کہاں حشر میں اِحباب جناب
زِندہ رہنے کا اُسے کوئی اَدِھیکار نہیں
مجنوں گر لیلیٰ کی خاطر نہ ہو بے تاب جناب
حُسن والوں سے کوئی جنگ کہاں جیتا ہے
حُسن کے پاؤں پڑے رُستم و سہراب جناب
گُل مہکنے سے ہے شاداب چمن ہستی کا
کس کی خوشبو نے کیے گُل سبھی شاداب جناب
چاند کو ڈُھونڈنے ہم سارے نکلتے ہیں مگر
ڈُھونڈنے کس کو نکلتا ہے یہ مہتاب جناب
آپ پہ لکھ دُوں میں دیوان مگر دیکھوں تو
منہ زَبانی تو میں لکھتا نہیں اِک باب جناب
آپ ’’تم جیسے‘‘ ہمیں شوق سے کہیے لیکن
ہو نہ جائیں کہیں ہم جیسے بھی نایاب جناب
قیس نے چاہا تمہیں ، جُرم کیا ، مان لیا
جُرم کے کس نے مہیا کیے اَسباب جناب!
شہزاد قیس کی کتاب "لیلٰی" سے انتخاب
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






