حشر میں ڈُھونڈ کے اُن کو کہا آداب جناب
Poet: شہزاد قیس By: Shahzad Qais, لاہورحشر میں ڈُھونڈ کے اُن کو کہا آداب جناب
خوب آنچل کو نہ پا کر ہُوئے آب آب جناب
آپ کے منہ سے تو جھڑنے لگے گُل گالی کے
ہم کسی اور کو بتلائیں گے یہ خواب جناب
حشر سے بھی ہے فُزوں ، کُوچۂ لیلیٰ کا جُنوں
قتل ہوتے ہیں کہاں حشر میں اِحباب جناب
زِندہ رہنے کا اُسے کوئی اَدِھیکار نہیں
مجنوں گر لیلیٰ کی خاطر نہ ہو بے تاب جناب
حُسن والوں سے کوئی جنگ کہاں جیتا ہے
حُسن کے پاؤں پڑے رُستم و سہراب جناب
گُل مہکنے سے ہے شاداب چمن ہستی کا
کس کی خوشبو نے کیے گُل سبھی شاداب جناب
چاند کو ڈُھونڈنے ہم سارے نکلتے ہیں مگر
ڈُھونڈنے کس کو نکلتا ہے یہ مہتاب جناب
آپ پہ لکھ دُوں میں دیوان مگر دیکھوں تو
منہ زَبانی تو میں لکھتا نہیں اِک باب جناب
آپ ’’تم جیسے‘‘ ہمیں شوق سے کہیے لیکن
ہو نہ جائیں کہیں ہم جیسے بھی نایاب جناب
قیس نے چاہا تمہیں ، جُرم کیا ، مان لیا
جُرم کے کس نے مہیا کیے اَسباب جناب!
شہزاد قیس کی کتاب "لیلٰی" سے انتخاب
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






