آنکھیں
Poet: Asghar Azimabadi By: Syed Asghar Hussain, Patnaآنکھیں ہیں تیری یا ہے چھلکتا ہوا پیمانہ
جیسے ہو ا نمیں ڈوبا میرے یاس کا میخانہ
آنکھیں میں میری اب بھی چھایا وہی ہے منظر
شرما کے تیرا مجھ سے آنچل سے مُنہ چھُپانہ
خاموش نگاہوں سے کیا تو نے کہا مجھ سے
آنکھیں ہی سمجھتی ہیں نظروں کا یہ افسانہ
آنکھیں کا میری کھُلتے چہرے پہ تیرے جانا
جیسے ہو بیاباں میں بُلبل کا چہچہانہ
آنکھیں بھُلا نہ پایٔ بھیگے تیرے چہرے پر
بالوں سے تیری جھڑ کر موتی کا چھٹک جانہ
بعدِ صبا سی لہریں آنچل سے یوں اُڑانا
جیسے کہ فضاؤں میں بکھرے نیا ترانہ
سیکھا نہیں کسی سے تیری ادا ہی جانا
ایک تیر نیم کش کا آنکھوں سے یوں چلانہ
راہوں پہ تیری اب بھی آنکھیں لگی ہے میری
نظروں کی پیاس آکر ایک بار بُجھاجانہ
چاند اپنی نگاہوں میں اب اور نہیں جچتا
چہرا تو آ کے مجھکو ایک بار دِیکھا جانہ
میں اپنی نگاہوں سے خود ہی ہوں گرا جاتا
کیا بات تیری ہے اور کیا پیش ہے نظرانہ
آنکھوں کی تیری مییٔ سے غافِل نہ رہا میں بھی
جب سے پیا ہے اِنکو بھولا ہر ایک افسانہ
شاعر کی شاعری میں لطفِ شباب بھر دیں
نظروں جھُکا کے تیرا چُپکے سے مسکرانہ
ڈوبا تیری آنکھوں کی مستی میں ہے اصغر ؔ بھی
ہے یا س کہ تو آ کے ڈوبے یا ڈوبا جانہ
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






