اٹھتا ہے جنازوں پہ جنازہ مرے آگے
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), Houston TX USAساحل تھا بہت دور پے در یا مرے آگے
نخوت سے بھرا پِھرتا تھا قطرہ مرے آگے
رشتوں کے تعلق کو بھی مجروح کیا ہے
دیواروں کی صورت میں ہے سیما مرے آگے
نکلا جو ارادہ لئے ، رسوائی کا میری
کرڈالا اسے رب نے ہی رسوا مرے آگے
ہاں دوستی جب سے مری جگنو سے ہوئی ہے
ظلمت ہے بہت پیچھے ، اجالا مرے آگے
جب سے مرے اللہ نے دی فقر کی دولت
خود کاسہ لئے آگئی دنیا مرے آگے
مانا کہ یہ دنیا بھی مکافات عمل ہے
اک دن جو کیا ، سامنے آیا مرے آگے
جب یاد کے افلاک پہ تاروں کی کمی تھی
بنتا گیا ہر اشک ستارا مرے آگے
میں جیسے تماشائی بنا دیکھ رہا ہوں
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
اک حرف بھی میرا نہیں مولا کا دیا ہے
تم لاکھ کہو اس کو صحیفہ مرے آگے
بستی ہے کہاں یہ تو کوئی گورکدہ ہے
اٹھتا ہے جنازوں پہ جنازہ مرے آگے
پُر پیچ سی راہوں نے ہی بھٹکا دیا مفتی
حالانکہ تھا اک سیدھا سا رستہ مرے اآگے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






