ماں کے خط کو چوم کر پھر سے پڑھا اچھا لگا
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), Houston TX USAاس کا اپنے پن سے مجھ کو دیکھنا اچھا لگا
بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا
ایک مدت بعد کھولی میں نے بوسیدہ کتاب
اس کے اندر پھول اک رکھا ہؤا اچھا لگا
بے کلی اس مرتبہ جب دل کی حد سے بڑھ گئی
ماں کے خط کو چوم کر پھر سے پڑھا اچھا لگا
کچھ بھی کہتا ہو نجومی ہاتھ میرا دیکھ کر
کاتبِ تقدیر کا لکھا ، سدا اچھا لگا
معاملے میں نے رکھے اپنے خدا کے سامنے
پھر وہاں سے جوہؤا، وہ فیصلہ اچھا لگا
ایک عادت تھی بُری اس کی مجھے ہی گھورنا
وہ بُرا ہوکے بھی جانے کیوں مجھے اچھا لگا
آئینہ بھی تاب کیا لائے مرے محبوب کی
دیکھ اس کو آئینے کا ٹوٹنا اچھا لگا
مولا میری زندگی میں نور تیرے نور سے
جو دیا تُونے دیا ، جو کچھ دیا اچھا لگا
بے کلی بھی مٹ گئی ، دائم سکوں بھی مل گیا
آج پھر سے رب کے گھر میں بیٹھنا اچھا لگا
دائرے کی شکل میں جیسے ہو مفتی محوِ رقص
نرم سی اسکی کلائی میں کڑا اچھا
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






