اپنوں سے کسی طور عداوت نہیں کرتے
Poet: قاسم بابا By: Qasim Baba, Slough UKاپنوں سے کسی طور عداوت نہیں کرتے
ہم لوگ محبت میں خیانت نہیں کرتے
آتا ہے بڑا خوف مجھے اہلِ جہاں سے
جو دل میں تو رکھتے ہیں شکایت نہیں کرتے
جو سر پہ مرے جرم ہے ثابت نہ ہوا تھا
بے وجہ کسی سے کبھی نفرت نہیں کرتے
بس ایک نظر پیار سے وہ دیکھ لیں ہم کو
اتنی سی بھی ہم پر وہ عنایت نہیں کرتے
حیران ہوں میں آج کے ملاؤوں پہ قاسم
کیونکر وہ برائی کی مذمت نہیں کرتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






