دریا ہوں میں جلتا ہوا صحرا تو نہیں ہوں
Poet: قاسم بابا By: Qasim Baba, Slough London UKدریا ہوں میں، جلتا ہوا صحرا تو نہیں ہوں
سچ ہوں میں ،تری آنکھ کا دھوکا تو نہیں ہوں
برسوں کی رفاقت کا ہُوا خون یہاں پر
یوں ہی میں کسی بات پہ روٹھا تو نہیں ہوں
کیوں چھوڑ رہے ہو یوں مجھے بیچ بھنور کے
“میں ڈوب رہا ہوں ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں”
ہے بات الگ تجھ سے کوئی بات نہیں پر
اے وعدہ شکن تجھ کو میں بھولا تو نہیں ہوں
گر بھول ہوئی ہے تو ہوں معافی کا طلبگار
انسان ہوں آخر میں فرشتہ تو نہیں ہوں
جانے کے لیے لوٹ کے آیا تو نہیں ہوں
جو رات کو مٹ جائے وہ سایہ تو نہیں ہوں
سورج ہوں میں ڈوبا بھی تو نکلوں گا دوبارہ
کھو جاؤں سمندر میں وہ دریا تو نہیں ہوں
کیوں مجھ کو اٹھا ئے گا کوئی خود کو گرا کر
قاسم میں کسی آنکھ کا تارا تو نہیں ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






