ہم ہیں پریمی تجھے چاہنے والے ہیں
Poet: Jamil Hashmi By: jamil Hashmi, Rawalpindiہم ہیں پریمی تجھے چاہنے والے ہیں
دل میں چھپی بات بتانے والے ہیں
دوریاں ختم ہو جائیں گی قریب آ جائو
ہم تو یہ فاصلےگھٹانے والے ہیں
کچھ تو بولو کیوں خاموش ہوجاناں
ہم تو بات آگے بڑھانے والے ہیں
کرتے ہیں تجھ سے ملاقاتیں خوابوں میں
ہم تیری بھی نیندیں اڑانے والے ہیں
رہتا ہے ہماری نظروں میں تو ہر پل
ہم تجھے آنکھوں میں بسانے والے ہیں
مت جانا دور ہماری سانسوں سے نکل کر
ہم تو خود کو تجھ پر مٹانے والے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






