اچھا نہیں لگتا
Poet: Saima Saher By: Saima Saher, Gujranwalaسر شام لوٹ آنا ہمیں اچھا نہں لگتا
تم بلاؤ ہم نہ آئیں ہمیں اچھا نہں لگتا
جب چاہتے ہیں سب ارادے توڑ دیتے ہیں
تم سے لا تعلق رہنا ہمیں اچھا نہیں لگتا
تم ملتے ہو تو کھو جاتی ہیں باتیں ساری
تمہارے سامنے بولنا ہمیں اچھا نہیں لگتا
بہت کم لوگوں کو ہم لفظوں کا بھرم دیتے ہیں
ہر اک پہ مان کر لینا ہمیں اچھا نہیں لگتا
تم رتجگے کاٹو اور ہم سکوں نیندیں سوئیں
اے زندگی تیرا یہ ضابطہ ہمیں اچھا نہیں لگتا
تم زندگی تنہا نہیں گزار سکتے ہو
تمہارا نم آنکھوں سے یہ کہنا ہمیں اچھا نہیں لگتا
تمہارے خواب کی آج ہم تمہیں تعبیر دیتے ہیں
تمہارا نارساں چہرہ ہمیں اچھا نہیں لگتا
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






