اچھا ٹھیک
Poet: یاسر فاروق By: Yasir Farooq, Karachiمیرے دل کو توڑ دیا ہے اچھا ٹھیک
تم نے مجھ کو چھوڑ دیا ہے اچھا ٹھیک
یادیں بھی سنبھالی جا نہ سکیں تم سے
ماضی سے رشتہ توڑ دیا ہے اچھا ٹھیک
چلتے چلتے اک دن منزل مل ہی جاتی
سیدھا رستہ موڑ دیا ہے اچھا ٹھیک
خوب دیا یہ تحفہ جانے والے نے
درد سے رشتہ جوڑ دیا ہے اچھا ٹھیک
لیکن تم مجبور تھے جاناں سو میں نے
شکوہ گلہ اب چھوڑ دیا ہے اچھا ٹھیک
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






