اچھانہیں لگتا

Poet: fauzia By: fauzia, rahim yar khan

ٹھرو جاؤ کہ پچھڑنا اچھا نہیں لگتا
سوا وصل کہ کوئی لمحہ اچھانہیں لگتا

یوں تو اکثر بدل گئے شناسا میرے
اک اسکا بدلنا اچھا نہیں لگتا

جانتی ہوں الفاظ کے خنجر بہت تیز ہیں تیرے
یوں نہ کہو میرا ساتھ اچھا نہیں لگتا

اب یہ کہتے ہو شیلف بنالیتی ہو کتابیں اپنی
جھوٹ کہتے ہو کتابوں میں پھول رکھنااچھانہیں لگتا

رات کتنے پہر کی ہوگئی کتنی عمر باقی ہے
ہمنوا !وصل راتوں میں شمار اچھانہیں لگتا

محبت کاقرض چکا نہ پاوگے ۔۔۔۔۔۔۔سود معاف کیا
کسی ناتواں پہ اتنا بوجھ اچھانہیں لگتا

میری الفت کا صلہ دے تو ممکن ہی نہں
ٹکڑوں میں عنائتوں کا سلسلہ اچھانہیں لگتا

پھولوں کو سمجھاو بکھرنا چھوڑدیں
محبت میں بے آبرو ہونااچھانہیں لگتا

چلے بھی آو کسی روز دبے پاؤں چپکے سے
جدائیوں کا طویلکا سلسلہ اچھانہیں لگتا

Rate it:
Views: 436
31 May, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL