اک بار تو آ اک بار تو آ
Poet: Syed Ishtiaq Hussian Kazmi By: Waqas Shah, RAWALPINDIاک بار تو آ اک بار تو آ
آنکھوں کو ملے تسکین ایسی
کہ چمن میں چلے پھر باد صبا
بہاروں میں سجے گا سارا جہاں
اک بار تو آ اک بار تو آ
ہو جائیں گے صحرا پھر گلشن
ایسی ہو رواں دل میں دھںکن
خلوت کو بھی ہم کہیں انجمن
ہو جائے صحرا مہکتا چمن
کٹ جائے گی شب ہجر کی مشکل
آجائیگی چہروں پر پھر رونق
مریضوں کو ملے اک شفا ایسی
ہمیشہ کے لیے کہیں غم الوداع
اک بار تو آ اک بار تو آ
راگوں میں ڈھلیں گے کئی نغمے
خوشی کی مانند ہوں غم اپنے
آنکھوں میں سجیں پھر حسین سپنے
زمانہ کرے بیاں پھر قصے اپنے
مرہم سی لگے پھر زخموں پر
کچھ ایسے دیکھ میرے دلربا
اک بار تو آ اک بار تو آ
تو ہی تو ہے میرے اب افسانے میں
بدلتی دنیا کے ہر اک زمانے میں
جدھر جاؤں اسی آشیانے میں
غم اور خوشی کے ہر اک ٹھکانے میں
گل و خوشبو اور چمن تیری عطا
تیری سانسوں سے بنتی ہے باد صبا
اک بار تو آ اک بار تو آ
مل جائے ہمیں منزل اپنی
کٹ جائے گی پھر مشکل اپنی
سجا لیں گے پھر محفل اپنی
یوں ہو جائے داستاں مکمل اپنی
ہو جائے ہم پر بھی نظر کرم
کرتے ہیں صبح و شام اک ہی دعا
اک بار تو آ اک بار تو آ
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






