اک ترا تصور ہی آخری سہارا ہے

Poet: بدیع الزماں سحر By: مصدق رفیق, Karachi

اک ترا تصور ہی آخری سہارا ہے
ورنہ دل کا آئینہ کب سے پارہ پارہ ہے

زندگی خبر بھی ہے بے وفا زمانے میں
میں نے تیری زلفوں کو کس طرح سنوارا ہے

ایک دل کی تنہائی اور سو غم دوراں
میں نے درد دنیا پہ درد دل کو وارا ہے

میں ہوں اس کنارے پر تم ہو اس کنارے پر
بیچ میں سمندر کا کتنا تیز دھارا ہے

دل تڑپ گئے ہوں گے باغ میں عنادل کے
میں نے بے وفا تجھ کو جس طرح پکارا ہے

ازدحام جلوہ ہے بارش تجلی ہے
دامن نظر کس نے شوق سے پسارا ہے

لوگ ٹھیک کہتے ہیں قبر پر مری آ کر
موت سے یہ کیا مرتا زندگی نے مارا ہے

دل کے آبگینے کو ٹھیس لگ گئی کیسے
کیا کسی نے پھر مجھ کو دور سے پکارا ہے

بول تیرے کانوں سے کس کی چیخ ٹکرائی
ہائے کتنا لرزیدہ تیرا گوشوارہ ہے

اے سحرؔ چلے آتے تم بھی سیر گلشن کو
باد نو بہاری ہے شبنمی نظارا ہے
 

Rate it:
Views: 408
24 Jun, 2025
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL