اک حسیں شام کے جلووں کو صدا دیتا ہوں
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore,pakistanاک حسیں شام کے جلووں کو صدا دیتا ہوں
میں ترے وصل کے لمحوں کو صدا دیتا ہوں
میرے ایاغ محبت کو ذرا سا بھر دے
تیری آنکھوں کی شرابوں کو صدا دیتا ہوں
ان میں غم اور اداسی کے سوا کچھ بھی نہیں
کس لیے تیرے خیالوں کو صدا دیتاہوں
تیرے دامان وفا میں مجھے نفرت ہی ملی
پھر میں کیوں تیری وفاؤں کو صدا دیتا ہوں
میں نے گائے تھے ترے پیار کی خاطر جو کبھی
ان فراموش سے نغموں کو صدا دیتا ہوں
رنگ باقی ہیں نہ پہلی سی وہ خوشبو ان میں
عہد گم گشتہ کے پھولوں کو صدا دیتا ہوں
ہر طرف ٹھہری ہوئی سرد خموشی کی کہر
ایسے میں تیری صداؤن کو صدا دیتا ہوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






