اک شخص کو دیکھا تھا تاروں کی طرح ہم نے

Poet: By: Syed Abbas Agha, Quetta

اک شخص کو دیکھا تھا تاروں کی طرح ہم نے
اک شخص کو چا ہا تھا اپنوں کی طرح ہم نے
اک شخص کو سمجھا تھا بھولوں کی طرح ہم نے

وہ شخص قیامت تھا کیا اس کی کریں باتیں
دن اس کیلئے پیدا، اور اس کی ہی تھی راتیں

کم ملتا کسی سے تھا، ہم سے تھی ملاقا تیں
رنگ اس کا شھابی تھا، زلفوں میں تھی مہکاریں

آنکھیں تھی کے جادوں تھا،پلکیں تھی کے تلواریں
دشمن بھی اگر دیکھیں، سو جان سے دل ہاریں

کچھ تم سے وہ ملتا تھا، باتوں میں شباہت تھی
ہاں تم سا ہی لگتا تھا، شوخی میں شرارت میں
لگتا بھی تم ہی سا تھا، دستور محبت میں

وہ شخص ہمیں ایک دن اپنوں کی طرح بھولا
تاروں کی طرح ڈوبا، پھولوں کی طرح ٹوٹا
پر ہاتھ نا آیا وہ،ہم نے بہت ڈھونڈا۔

تم کس لئے چھونکے ہو، تم کس لئے چھونکے ہو
کب ذکر تمہارا ہے،
کب تم سے تقا ضا ہے،
کب تم سے شکایت ہے
اک تازہ حکایت ہے،
سن لو تو عنایت ہے

اک شخص کو دیکھا تھا تاروں کی طرح ہم نے
اک شخص کو چا ہا تھا اپنوں کی طرح ہم نے
 

Rate it:
Views: 2525
10 Jan, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL