نامہءِ عشق میں تاثیرِ التجاٰ کیلئے
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiنامہءِ عشق میں تاثیرِ التجاء کیلئے
جگر کے خون سے لکھو ذرا وفا کیلئے
ہیں کان کب کے ترستے کرو تکلم کچھ
لبوں کو چاک کرو کہدو کچھ خدا کیلئے
طبیبِ عشق نے نسخہءِ وصل لکھا ہے
مجھے ملو تو سہی مرض کی دوا کیلئے
امیدِ دل ہے کہ اک بار دیکھ لوں تجھ کو
ہزار سجدے کئے بھی تو اس دعا کیلئے
حسین لوگ بڑے ناز سے ہی آتے ہیں
یہ پانچ شعر بہت کم ہیں التجاء کیلئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






