اک پروانہ سربزم اک دیوانہ عیاز
Poet: Ahmad Faisal Ayaz By: Ahmad Faisal Ayaz, Hafizabadاب عہد و پیمان وفا باندھے جاتے ہیں
نام قاتل سے جو شہر میں جانے جاتے ہیں
اب کہ روٹھی ہیں بہاریں گلستاں سے میرے
خزاں سے ٹوٹے ہوئے پتے ہی گرانے جاتے ہیں
مزار محبت کی عمارت گری پڑی ہے
چلو کہ ہم ہی اٹھانے جاتے ہیں
مئے کدے میں ساقی کو نصیحت کرنے
واعظ مئے کے بہانے جاتے ہیں
مئے کدے میں مئے وہ کم پیتے ہیں
ہاں مگر اوروں کو پلانے جاتے ہیں
ہم چلاتے ہیں کبھی جو دور جام
ہر تشنہ لب تک پیمانے جاتے ہیں
اک پروانہ سر بزم اک دیوانہ عیاز
عشق و جنوں کے مجرم گردانے جاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






