دل کے چاک ہم نے سی لئے ہیں عیاز
Poet: Ahmad Faisal Ayaz By: Ahmad Faisal Ayaz, Hafizabadاٹھ کہ جشن بہاراں کا زمانہ ہی نہ ہو
ممکن ہے کہ پھر اپنا جانا ہی نہ ہو
آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا بھری بزم میں ہمیں
شائد ہمیں انھوں نے پہچانا ہی نہ ہو
جھوٹے وعدے جھوٹی قسمیں جھوٹے دعوے جھوٹا پیار
ایماں والوں کو شائد ایماں بچانا ہی نہ ہو
یہ سوچ کر تیری آنکھ کہ سب اشک پی گئے
دربار حسن کی مئے کا پیمانہ ہی نہ ہو
ہر آزمائش سے پہلے پیار ثابت تھا اپناتو
وہ بولے آزمائیں کیوں گر آزمانا ہی نہ ہو
بازو پکڑ کر لئے جاتے ہیں قتل گاہ کو
اس دل فریب کا وہ کہیں ٹھکانا ہی نہ ہو
دل کے چاک ہم نے سی لئے ہیں عیاز
در کھولیں کیوں جب کسی کو آنا ہی نہ ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






