اک پری ذاد كے فرط شوق ميں آدم ذاد كا چہرہ ابھر آيا
Poet: Neelam By: Neelam, Lahoreاک پری ذاد كے فرط شوق ميں آدم ذاد كا چہرہ ابھر آيا
تاريک لمحوں ميں فراق يار اس چشم تر كو تڑپا گئی
رعنائی - خيال - يار ميں يہ رنج كيسے اتر آيا ھے
رگ جاں كے سحر سے نكل كر ياد اس كو رلا گئی
كيفيت تخيل ميں شرابور شكستہ دل بے اختيار ہی رو پڑا
نازنين كی نگاہ شوق بے چين حسرتوں كو بہكا گئی
سلاسل-درد ميں فروزاں ہيں تغافل كے صدمے تو ديكھ
موت كو پاس پايا تو طلب-ديدار يار دل ميں سما گئی
فنا كے سفر ميں ٹوٹ رہے تھے سانسوں كے دھاگے سبھی
لا حاصل محبتوں كا بوجھ لے كر جاں لبوں تک آ گئی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






