اک پری ذاد كے فرط شوق ميں آدم ذاد كا چہرہ ابھر آيا

Poet: Neelam By: Neelam, Lahore

اک پری ذاد كے فرط شوق ميں آدم ذاد كا چہرہ ابھر آيا
تاريک لمحوں ميں فراق يار اس چشم تر كو تڑپا گئی

رعنائی - خيال - يار ميں يہ رنج كيسے اتر آيا ھے
رگ جاں كے سحر سے نكل كر ياد اس كو رلا گئی

كيفيت تخيل ميں شرابور شكستہ دل بے اختيار ہی رو پڑا
نازنين كی نگاہ شوق بے چين حسرتوں كو بہكا گئی

سلاسل-درد ميں فروزاں ہيں تغافل كے صدمے تو ديكھ
موت كو پاس پايا تو طلب-ديدار يار دل ميں سما گئی

فنا كے سفر ميں ٹوٹ رہے تھے سانسوں كے دھاگے سبھی
لا حاصل محبتوں كا بوجھ لے كر جاں لبوں تک آ گئی

Rate it:
Views: 478
23 May, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL