اک پل رہا تھا خواب میں اور آنکھ کھل گئی

Poet: محراب منیر By: محراب منیر, Rahimyarkhan

اک پل رہا تھا خواب میں اور آنکھ کھل گئی
کچھ چل رہا تھا خواب میں اور آنکھ کھل گئی

مولا سبھی محبتوں کی خیر ہو یہاں
دل جل رہا تھا خواب میں اور آنکھ کھل گئی

سب رنجشیں بھلا کے لگانے مجھے گلے
وہ چل رہا تھا خواب میں اور آنکھ کھل گئی

محراب ہم پہ ہجر کا جتنا عذاب تھا
سب ٹل رہا تھا خواب میں اور آنکھ کھل گئی

Rate it:
Views: 76
04 Apr, 2025