اک چاند نہیں چاند ہیں سارے جنا ب
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا
دیکھے ہیں غزل نور ستارے جنا ب
اک چاند نہیں چاند ہیں سارے جنا ب
ٹکرا کے کہاں جاتی ہیں سب لہریں بھاگ
دریاؤں کے ہوتے ہیں کنارے جنا ب
امّید ہوا کی بھی کہیں ہے موجود
ہیں راکھ میں ہر لمحہ شرارے جنا ب
ہر بار تدبُّر سے بدل دیں حالات
ہوتے ہیں لگن دیکھ خسارے جنا ب
وشمہ مجھے تھاما ہے جنوں نے ہر بار
ہوتے ہیں خرد مند سہارے جنا ب
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






