صدائے عشق
Poet: امین علی By: امین علی, Kunriمکمل رکھنا ہو "عشق" تو ادھورا چھوڑ دو
دل بولا تیری حمایت میں، یہ جھگڑا چھوڑ دو
جہاں لے مانگ بندے، حکم یہی ہوا یار چھوڑ دے
دستِ طلب سے ہاتھ ہٹا، جو یار نہیں، دل چھوڑ دے
کچھ ایسا ہم میں اور اُن میں فرق نمایاں ہو گیا
سفید رنگ اُن کو ملا، ہمیں اندھیرا ہو گیا
جو لب پہ نہ لایا، وہ رازِ الفت معلوم انہیں
کیا چاہتا ہے دل سے آدم، سب معلوم انہیں
کتابوں کی مانند تھا، کسی بستے میں پڑا ہوا
نہ پھول تھا، نہ خار تھا، بس اک خط جلا ہوا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






