اک ہوا ایسی چلی بگلے بھی کالے ہو گئے

Poet: چاند اکبرآبادی By: مصدق رفیق, Karachi

اک ہوا ایسی چلی بگلے بھی کالے ہو گئے
چاند کو سردی لگی سورج کو چھالے ہو گئے

مذہبی آتش نے بچپن کی جلا دی دوستی
ہم بھی کعبہ بن گئے تم بھی شوالے ہو گئے

حوصلہ چھونے کا تھا بچپن میں تجھ کو آسماں
برسوں تیری سمت اک پتھر اچھالے ہو گئے

ہجر کی دولت نے مالا مال مجھ کو کر دیا
بال چاندی کے ہوئے سونے کے چھالے ہو گئے

ایرے غیرے نتھو خیرے پڑھ رہے ہیں چہرے اب
چہرے چہرے نہ ہوئے گویا رسالے ہو گئے

داغ سورج کی حکومت پر بھی کچھ تو لگ گیا
کچھ اجالے جب اندھیروں کے نوالے ہو گئے

آئنوں پر پتھروں کے قتل کا الزام کیوں
آئنے آئینے نہ ہوں جیسے بھالے ہو گئے

دیکھ لیتے تم بھی اپنے اس زمیں کے چاندؔ کو
اتنی جلدی آسماں کے کیوں حوالے ہو گئے
 

Rate it:
Views: 363
25 Jun, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL