یہ تصور کا وار جھوٹا ہے

Poet: چاند اکبرآبادی By: مصدق رفیق, Karachi

یہ تصور کا وار جھوٹا ہے
خواب جھوٹے ہیں سار جھوٹا ہے

پھول تم توڑ لائے شاخوں سے
کیا بہاروں سے پیار جھوٹا ہے

آنکھوں میں کچھ زبان پر کچھ ہے
تیرا کردار یار جھوٹا ہے

ساری گستاخیاں رہیں قائم
اس پہ رتبہ وقار جھوٹا ہے

لاپتہ ہوں میں گھر نہیں کوئی
چٹھی جھوٹی ہے تار جھوٹا ہے

موت سے تیز دوڑ کس کی ہے
عمر پر شہسوار جھوٹا ہے

دھوپ کے شول بکھرے ہیں ہر سوں
چاندنی کا خمار جھوٹا ہے

آنکھوں میں رکھ ہنر تکلم کا
لفظوں پر اعتبار جھوٹا ہے

بار خاطر ہے ہم کو فکر زیست
حسرتوں کا مزار جھوٹا ہے

ٹوٹنا آئنے کی فطرت ہے
پتھروں سے قرار جھوٹا ہے

چاندؔ کب تک کرو گے دل کا یقیں
آپ کا انتظار جھوٹا ہے
 

Rate it:
Views: 373
25 Jun, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL