اکثر بھول جاتا ہوں
Poet: Hukhan By: Hukhan, karachiتیری یادوں میں اکثر
یہ بھول جاتا ہوں
کہ تجھے تو بھول جانا ہے
تیری باتوں میں اکثر یہ بھول جاتا ہوں
کہ توحقیقت نہیں بس اک فسانہ ہے
تیری محفل میں اکثر یہ بھول جاتا ہوں
کہ تو دعا نہیں کسی کا نذرانہ ہے
گھر میں تجھے دیکھ کر اکثر
یہ بھول جاتا ہوں
کہ اک دن تجھے اپنے گھر جانا ہے
تیرا روپ دیکھ کے اکثر
یہ بھول جاتا ہوں
یہ سب پرایہ ہو جانا ہے
خان کرتے تھےجو جادوگری
کہ اکثر یہ بھول جاتا ہوں
تیرا کہاں کوئی ٹھکانہ ہے
More Love / Romantic Poetry






