اگر تم میری باتوں کو نہ پھیلاتے تو بہتر تھا
Poet: ڈاکٹر شاکراللّٰہ ہمدرد By: ڈاکٹر شاکراللّٰہ ہمدرد, Karachiاگر تم میری باتوں کو نہ پھیلاتے تو بہتر تھا
مجھے خلوت میں میرے دوست سمجھاتے تو بہتر تھا
محبت کی لگی کھیتی کو کیوں برباد کر ڈالا؟
اسی کھیتی کے دہقاں کو جو بلواتے تو بہتر تھا
رقیبانہ کہا اس نے تو تم تسلیم کر بیٹھے؟
اگر وہ شخص تم مجھ سے جو ملواتے تو بہتر تھا
دیارِ غیر میں گھاٸل ہوا تھا دوست میں اک دن
مسیحا بن کے گر اس دن چلے آتے تو بہتر تھا
میں تو نادان تھا، کم فہم تھا، ضدی، ہٹیلا تھا
خرمندی سے تم مجھ کو جو منواتے تو بہتر تھا
محبت، دوستی، رشتے بہت نایاب ہوتے ہیں
وفا ہوتی ہے کیا؟ گر تم سمجھ پاتے تو بہتر تھا
کسی درویش سے ملتے تو شاید بات بن جاتی
غلط فہمی کو گر تم دل میں دفناتے تو بہتر تھا
نوکیلے تیز خنجر سے مجھے خود قتل کردیتے
مگر غیروں سے یوں مجھ کو نہ دھمکاتے تو بہتر تھا
دلِ بسمل کو سمجھایا، نہیں مانا ، نہیں سمجھا
اگر” ہمدرد“ تم اس دل کو بہلاتے تو بہتر تھا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






