اگر تیرا اشارہ اے نگاہ یار ! ہو جائے

Poet: Hazrat Allama Pir Syed Naseer-ud-Din Naseer Gillani (Golra Sharif) By: Khalid Roomi, Rawalpindi

 اگر تیرا اشارہ اے نگاہ یار ! ہو جائے
تو دن پھر جائین میرے، اور بیڑا پار ہو جائے

توجہ سے تری محروم اگر بیمار ہو جائے
دوا بے سود ہو جائے ، دعا بے کار ہو جائے

جدائی کا تصور تک نہ ہو ، وہ پیار ہو جائے
جبین شوق جذب آستان یار ہو جائے

جو تم آؤ تو کلیاں مسکرائیں، پھول کھل اٹھیں
بہار انگڑائیاں توڑے ، چمن بیدار ہو جائے

قیامت ہے ، کرشمہ ہے ، نگاہ یار کی جنبش
کوئی مدہوش ہو جائے ، کوئی ہشیار ہو جائے

ہماری زندگی کا آسرا سوز محبت ہے
سکوں مل جائے تو جینا ہمیں دشوار ہو جائے

ابھی جلدی ہی کیا ہے ، میں ابھی زندہ سلامت ہوں
تم آنا جب، کہ جب ، میت مری تیار ہو جائے

عدو جب بزم میں ہو اپنا ہونا کب مناسب ہے
کہیں ایسا نہ ہو باتیں بڑھیں ، تکرار ہو جائے

یہ پیمانہ نہیں، ساقی سے پیمان محبت ہے
جسے اقرار ہو ٹھرے ، جسے انکار ہو “ جائے“

نصیر اب تو سفینہ ڈوبنے کو ہے کوئی دم میں
وہ آ جائیں تو شاید اپنا بیڑا پار ہو جائے

Rate it:
Views: 1156
09 Sep, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL