اگر تیری عزت کی پرواہ نہ ہوتی
Poet: Athar Tahir By: Athar Tahir, Haroonabadاگر تیری عزت کی پرواہ نہ ہوتی
تو کسی کی مجال کیا تھی؟؟
کہ وہ مجھ پر زبان چلات
میں زبان نہ اُس کی کھینچ لیتا؟؟
اگر تیری عزت کی پرواہ نہ ہوتی
وہ شکل کے کوجے کمّی کمینے
جہالت کے منبے عقل کے اندھے
زبان کے گندے بے غیرت کہیں کے
عقل ایسی دیتا کہ انکھیں کھل جاتیں
اگر تیری عزت کی پرواہ نہ ہوتی
کہیں خود کو استاد استادی دکھائیں
بدتمیزوں کے بچے بدتمیزی سکھائیں
تمیز ان کو سکھاتا سبق ایسا پڑھات
کہ وہ سات نسلوں تک نہ بھول پاتے
اگر تیری عزت کی پرواہ نہ ہوتی۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







