پنی آنکھوں میں مری جان بساؤ تو سہی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااپنی آنکھوں میں مری جان بساؤ تو سہی
میں بھی تشنہ ہوں مری پیاس بجھاؤ تو سہی
اس کی حالت میں بنا دوں گی فقیروں جیسی
دل کی دھرتی پہ مجھے آج نچاؤ تو سہی
اپنی دہلیز پہ سورج کو بھی اپنا سمجھو
کوئی تصویر مقدر کی بناؤ تو سہی
پھر سے لوٹیں گے محبت کے پرندے اک دن
پھول خوشیوں کے مگر تم بھی کھلاؤ تو سہی
اپنی دھرتی پہ محبت کے ہی نغمے گاؤ
زندگی پیار کا نغمہ ہے بتاؤ تو سہی
سانس رکنے کو خزاؤں میں ہے دیکھو وشمہ
پھر سے اس باد محبت کو اڑاؤ تو سہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






