ایسا تو پہلے کبھی ہوا نہیں تھا
Poet: saiyaan_sham By: saiyaan_sham, rawalpindiایسا تو پہلے کبھی ہوا نہیں تھا
اتنا تو وہ مجھہ سے کبھی روٹھا نہیں تھا
پہلے آنچل میرا بھگو کر
کوئی آنسو کبھی گیا نہیں تھا
نجانے کیا ہوا ہے اب کے برس
ایسے تو کوئی دکھہ پہلے
مجھ سے لپٹا نہیں تھا
اے دل ناداں
اب کہاں فرصتیں ملیں گی تجھ کو
پہلے ایسے کوئی تجھ سے چھوٹا نہیں تھا
میرے لفضوں سے جگنو چرا کر
ایسے تو کوئی بھا گا نہیں تھا
اس شہر کا ہر شخص ہر جائی ہے
اس نے یہ سندیس بھیجا ہے
جو خود وفا کے نام سے بھی واقف نہیں تھا
وہ پھر سے نئی شکار کی تلاش میں ہے
جس نے خود کو بچایا نہیں تھا
بھول جانا اس کی فطرت ہے
تو یاد رکھنا اپنی عادت ہے
کیا بتاؤں اے اہل شہر
کہ ہم دونوں کے درمیاں
کوئی عہد ہوا نہی تھا
جب وہ نئے لوگوں کی راہیں دیکھتا تھا
میں اس کی جفائیں دیکھتی تھی
یہی وہ لمحہ ہوتا تھا
جس پل شام میں یہ سوچتی تھی
ایسا تو پہلے کبھی ہوا نہیں تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






