ایسا تو پہلے کبھی ہوا نہیں تھا

Poet: saiyaan_sham By: saiyaan_sham, rawalpindi

ایسا تو پہلے کبھی ہوا نہیں تھا
اتنا تو وہ مجھہ سے کبھی روٹھا نہیں تھا
پہلے آنچل میرا بھگو کر
کوئی آنسو کبھی گیا نہیں تھا

نجانے کیا ہوا ہے اب کے برس
ایسے تو کوئی دکھہ پہلے
مجھ سے لپٹا نہیں تھا

اے دل ناداں
اب کہاں فرصتیں ملیں گی تجھ کو
پہلے ایسے کوئی تجھ سے چھوٹا نہیں تھا
میرے لفضوں سے جگنو چرا کر
ایسے تو کوئی بھا گا نہیں تھا

اس شہر کا ہر شخص ہر جائی ہے
اس نے یہ سندیس بھیجا ہے
جو خود وفا کے نام سے بھی واقف نہیں تھا
وہ پھر سے نئی شکار کی تلاش میں ہے
جس نے خود کو بچایا نہیں تھا

بھول جانا اس کی فطرت ہے
تو یاد رکھنا اپنی عادت ہے
کیا بتاؤں اے اہل شہر
کہ ہم دونوں کے درمیاں
کوئی عہد ہوا نہی تھا

جب وہ نئے لوگوں کی راہیں دیکھتا تھا
میں اس کی جفائیں دیکھتی تھی
یہی وہ لمحہ ہوتا تھا
جس پل شام میں یہ سوچتی تھی
ایسا تو پہلے کبھی ہوا نہیں تھا

Rate it:
Views: 404
20 May, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL