ایسا لگتا ہے وہ نادان سمجھتے ہیں مجھے
Poet: عالم نظامی By: مصدق رفیق, Karachiایسا لگتا ہے وہ نادان سمجھتے ہیں مجھے
جو بھی تفریح کا سامان سمجھتے ہیں مجھے
خیریت بھی مری معلوم نہیں کرتے ہیں
اسقدر لوگ پریشان سمجھتے ہیں مجھے
شہر سے آؤ تو آنے کا سبب پوچھتے ہیں
گاؤں کے لوگ بھی مہمان سمجھتے ہیں مجھے
اس لئے میری خوشامد نہیں کرتا کوئی
سب منانا بہت آسان سمجھتے ہیں مجھے
میں ہوں فنکار تو فنکار ہی سمجھا جائے
آپ کیوں ہندو مسلمان سمجھتے ہیں مجھے
میں نے ہر زخم پہ مرہم کی نمائش کی ہے
جانے کیوں لوگ نمکدان سمجھتے ہیں مجھے
لوگ کیا کہتے ہیں پرواہ نہیں ہے عالمؔ
اتنا کافی ہے کہ انسان سمجھتے ہیں مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






