جانے کیوں محبت میں دل کشی نہیں ملتی
Poet: عالم نظامی By: مصدق رفیق, Karachiجانے کیوں محبت میں دل کشی نہیں ملتی
دوست روز ملتے ہیں دوستی نہیں ملتی
زندگی اگر چاہو فاقہ مست بن جاؤ
روغنی نوالوں سے زندگی نہیں ملتی
مسلک فقیری میں جو خوشی میسر ہے
تخت بادشاہی پر وہ خوشی نہیں ملتی
ادھ کھلی کلی شاید باغباں نے پھر توڑی
کیوں گلوں کے چہروں پر تازگی نہیں ملتی
ان کو کوئی سمجھائے اپنا جائزہ لے لیں
جن کو اپنے سجدوں میں چاشنی نہیں ملتی
دل مرا اندھیرے میں آج بھی بھٹکتا ہے
روشنی کی دنیا میں روشنی نہیں ملتی
زرد زرد چہرے ہیں خوف مرگ سے عالمؔ
اب تو کوئی بھی صورت چاند سی نہیں ملتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






