ایسے موسم میں جانی تو کہاں ہے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillکوبکو برگ و بار کا موسم
آیا گل کے نکھار کا موسم
گونج اٹھی ہے کوئل کی آواز
چار سو بجنے لگے طرب و ساز
وہ دور لے میں کوئی گا رہا ہے
کہ جیسے ابر مینہ برسا رہا ہے
ہر طرف رنگ و بو کی محفل ہے
ہر طرف رقص کا تسلسل ہے
زندگی کو معانی مل رہے ہیں
باغ میں پھول نئے کھل رہے ہیں
درختوں پر عجب سی تازگی ہے
ہر اک ٹہنی خوشی سے کھل رہی ہے
ہوا جھولا جھلائے خوشبوؤں کو
ملے ہیں رنگ نئے تتلیوں کو
سبز چادر پہ شبنمی موتی
جیسے جنت میں حور ہو سوتی
گلابوں نے ابھی جلوہ دکھایا
لگا تیرا سراپا سمٹ آیا
آرزو زندگانی کی جواں ہے
ہر کلی ایک نئی داستاں ہے
ہوا ہے برکھا بادل آسماں ہے
ایسے موسم میں جانی تو کہاں ہے
بہار کے حوالے سے ایک نظم تمہارے نام
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






