میری شب کو نئی سحر دے دو
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillمیری شب کو نئی سحر دے دو
میرے ہاتھوں میں مقدر دے دو
میں جینا چاہتا ہوں زندگی کو
میرے سجدوں کو اپنا در دے دو
حدود وقت ساری ٹوٹ جائیں
تمنا کو ذرا سے پر دے دو
میری سوچوں میں زلف لہرا کر
تپے صحرا کو اک شجر دے دو
چرا لو مجھ سے میری سب ریاضت
فقط میری ذرا خبر دے دو
مجھے منزل کی آرزو کب ہے
مجھے واپس میرا سفر دے دو
میری پلکیں تمہاری راہگزر ہوں
مجھے ایسا کوئی ہنر دے دو
چاند پر چیخ رہی ہیں چکوریں
ہمیں واپس ہمارے پر دے دو
میرے الفاظ کی شوخی کے لئے
خوابگیں لمحے ٹوٹ کر دے دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






