ایک ان دیکھا چہرہ
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Gujranwala, Pakistan ; Nizwa, Omanایک ان دیکھا چہرہ دل میں جگہ بنا بیٹھا
جس سے ملا بھی نہیں اُسے اپنا ہمسفر بنا بیٹھا
اُسے ڈھونڈھتا رہتا ہوں میں ہر ایک چہرے میں
جسے اپنے خوابوں کی دنیا کی ملکہ بنا بیٹھا
چاہت میں ہوش کھو دینا کہاں کوئی نئی بات ہے
میں تو اپنے وجود کو بھی اُس کا مسکن بنا بیٹھا
ہر پل میری سوچوں پر اب اُس کی حکومت ہے
جو کبھی افشاں بھی نہیں ہوا ایسا دلبر بنا بیٹھا
میں چاہ کر بھی اُس کو اپنے سے دور رکھ نہیں پاتا
اس قدر ٹوٹ کر چاہا اُسے اپنی زندگی بنا بیٹھا
میری ہر سانس اب اس کی امانت ہے
میرے محبوب تُجھے اپنی سانسوں کا ما لک بنا بیٹھا
تجھے دیکھنے کی حسرت میں زندہ ہوں ابھی تک
ذوالفقار اُسے اپنے ہونے کا احساس بنا بیٹھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






