یوں بھی تو تری راہ میں دیوارپہ چل کر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیایوں بھی تو تری راہ میں دیوارپہ چل کر
ہم حسن طلب عشق کے بیمارسنبھل کر
اتنا بھی محبت کو نہ سوچے مری ہستی
یہ معجزۂ فکر کہیں دل سے مچل کر
کیا حاصل کار غم الفت ہے کہ مجنوں
اب دشت نوردی کو بھی تیار ہے حل کر
اس شہر میں احساس کی دیوی نہیں رہتی
ہر شخص کے چہرے کو نیا دیکھ سنبھل کر
پھر تجھ سے جدا ہو کے کہیں خود سے بچھڑ جائیں
ہم لوگ کچھ ایسے بھی دل آزاربدل کر
تو جسم کے اندر ہے کہ باہر ہے کدھر ہے
وشمہ مری جاں کب سے تجھے ڈھونڈ نکل کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






