ایک اک لمحہ گزارا جا رہا ہے ہوش میں
Poet: کیف مرادآبادی By: مصدق رفیق, Karachiایک اک لمحہ گزارا جا رہا ہے ہوش میں
اے زہے قسمت جو ہیں طوفان کی آغوش میں
اب یہ عالم ہے ہمارا بندگی کے جوش میں
ایک سجدہ بے خودی میں ایک سجدہ ہوش میں
مصلحت کچھ بھی نہ کہنے دے تو اس کا کیا علاج
جانے کتنی داستانیں ہیں لب خاموش میں
اف یہ سیلاب حوادث ہائے یہ طوفان غم
یوں بھی لاتا ہوگا دیوانے کو کوئی ہوش میں
ڈر ہے اہل کارواں کی تیزئ رفتار سے
اپنی منزل بھی نہ کھو بیٹھیں کسی دن جوش میں
سامنے محشر ہو یا کونین چاہے کچھ بھی ہو
ان کا دیوانہ تو اب آتا نہیں ہے ہوش میں
کیفؔ سے پوچھے کوئی تیرے کرم کی وسعتیں
اس نے دیکھا ہے دو عالم کو تری آغوش میں
More Love / Romantic Poetry






