ایک تھا فسانہ اے یار اور اس کی یاری تھی۔
Poet: Aamir Veesar By: Aamir Ali Veesar, Khairpurایک تھا فسانہ اے یار اور اس کی یاری تھی
کہی تھی دھوپ اور کہیں بارش جاری تھی
مکان میرا بھی کچا تھا اور آندھی سازی تھی
دل میں لہو بھی ٹپکا تھا اور آنکھہ بھر آئی تھی
پانی ڈالنے کے لئے ابھی جا رہا تھا جلے ہوئے آشیانوں پر
مڑ کے جو دیکھا تو سامنے صرف خاک باقی تھی
میں حیرت میں ہوں کہ جلے کیسے وہ خالی چراغ
جن میں ایک بوند بھی جلانے کو نہ ڈالی تھی
میں حیرت میں ہوں کہ جلے کیسے وہ خالی چراغ
جن میں ایک بوند بھی جلانے کو نہ ڈالی تھی
بس یہی تو کرشمے ہوتے ہیں جانے کیوں میرے خلاف
کہ جب بھی رونے کو آئی تو میری ہی باری تھی
وہ جو چھوڑ گیا تھا نہ مجھ کو تنہا کر کے
اسکی یاد تھی دل میں اور آنکھ جاری تھی
اور سنائوں کیسے قصے میں تجھ کو "اے ویسر"
کے بازی "عامر" نے جب بھی لگائی تو وہ ہاری تھی
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






