ایک خواہش ہے کہ
Poet: Minhas By: Farasat ali, Lahoreایک خواہش ہے کہ
کسی شب بیٹھیں چھت پر
گھپ اندیھری رات ھو
گہرے بادل چھاۓ ہوں
اور ہلکی ہلکی برسات ہو
ایک دیا جلائیں منڈھیر پر
اس پر جھت ہمارا ہاتھ ہو
کسی بلی کے چیخنے پر
توں گھبرا کر میرے ساتھ ہو
کسی جگنو کے چمکنے پر
چہروں پہ خوشی کی بارات ہو
لب رہیں خاموش ہمارے
سانسوں سے صرف بات ہو
کاش اپنے جیون میں جاناں
ایسی ہی ایک رات ہو
ہر سو اندھیرا ہو تنہائی ہو
اور تیری میری بس ذات ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






