جو خواب حسین دیکھتے ہیں
Poet: Minhas By: Farasat ali, Lahoreجو خواب حسین دیکھتے ہیں
وۂ حقیقت میں دکھ جھیلتے ہیں
ہر خواب کی تعبیر الٹ ہوتی ہے
ایسا میں نہیں سب لوگ بولتے ہیں
ایسے کھو جاتے ہیں لوگ عشق میں
اپنا ہی بدن لوگ آپ ٹٹولتے ہیں
اب تو لوگ خدا سے بھی سچا عشق نہیں کرتے منہاس
اب تو تسبیح کے دانے بھی لوگ دنیا کے لیے رولتے ہیں
اتنے دغا باز ہو گئے ہیں اس دور کے انسان
دل میں کچھ ہوتا ہے ہونٹوں سے کچھ بولتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






