ایک شرط پر صاحب ہم زبان کھولیں گے
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississauga, Canadaا یک شرط پر صاحب ہم زبان کھو لیں گے
آپ چا ہے کچھ بھی ہو ، بیچ میں نہ بو لیں گے
ہاتھ سے قلم یارو ، چھن گیا تو کیا غم ہے
خونِ د ل میں ہم ا پنی ا نگلیاں ڈ بو لیں گے
فن ہو ا میں ا ڑ نے کا آپ کو مبارک ہو
ہم ز مین پر ر ہ کر آ سمان چھو لیں گے
ز ند گی کے میلے میں ، ا سقد ر جھمیلے میں
جو بھی اب صدا د ےگا ، ساتھ اسکے ہو لیں گے
یہ تو رسمِ د نیا ہے ، ا سطر ح تو ہو تا ہے
آپ سے بچھڑ کر ہم تھو ڑی د یر رو لیں گے
د لبر و ں کی منڈ ی میں مول تول جا ر ی ہے
آ پ کب تلک آ خر جیب کو ٹٹو لیں گے
تیر ے غم کو کیو ں ہم نے ا سقد ر سہل جا نا
دل کے داغ کو جیسے آ نسوں سے دھو لیں گے
سنُ کے اپنے با رے میں ہنس د یا کرو انو ر
دوستو ں کی عادت ہے، کچھ نہ کچھ تو بولیں گے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






