دل کے اچھے ہیں، یہی بات ہے مشہور بہت
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississauga, Canada اِ ن حسیں آ نکھوں نے رکھا مجھے مخمو ر بہت
ہے میری تشنہ لبی آ پ کی مشکو ر بہت
د یکھ سکتے نہیں ہم آپ کی بھیگی پلکیں
چلیے ہم مان گئے آ پ تھے مجبو ر بہت
ہم ہی نا کام محبت کا سبب ہیں یارو
پیار کے ہم نے بنا رکھے تھے دستور بہت
تھی یہ تقد یر کی خو بی کہ ر ہا میر ا چا ند
کبھی نز د یک بہت ا ور کبھی دوُ ر بہت
یہ الگ بات برا حال ہو ا ہے د ل کا
دل کے اچھے ہیں ، یہی بات ہے مشہور بہت
عشقِ بے پروا کہیں اور چلا جا ئے گا
جسکو رہنا ہے رہے حسنُ پہ مٕغر و ر بہت
دلِ وحشی کہیں سینے میں چھپا بیٹھا ہے
زخم سے چوُ ر بہت ، خو ن میں محصو ر بہت
ا پنے ارمانو ں کی دنیا سے نکل کر د یکھو
خو اہشیں دل میں ہمارے بھی ہیں مستور بہت
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






