ایک میری نظر ہے جسے گھر نہیں دکھائی دیتا
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiایک میری نظر ہے جسے گھر نہیں دکھائی دیتا
کسی بھی آئینے سے تیرا اندر نہیں دکھائی دیتا
شاید اسی کو ہم خامشی میں یاد کرتے ہیں
کہ دل میں آج بھی کوئی حشر نہیں دکھائی دیتا
ہماری بندگی بھی دیکھو کیا کیا رنگ لاگئی ہے کہ
سبھی فرشتے بن گئے ہیں بشر نہیں دکھائی دیتا
کہا تھا شے آتشگیر ہیں منزلیں رعشہ سے چلو
پھر بھی دیوانوں پہ بات کا اثر نہیں دکھائی دیتا
آدم جگاد سے آج تک دکھ کی لکیروں سے گذرا
لیکن قسمت کہتی ہے کہ چکر نہیں دکھائی دیتا
مسافر ہیں تو ممتحن ملتے رہیں گے راہ میں مگر
کوئی ہم سا بھی ہوتا تو یہ ہجر نہیں دکھائی دیتا
کون سوچتا ہے کہ زندگی کو فراق سے منتشر کروں
مگر عشق میں سنتوشؔ اکثر نہیں دکھائی دیتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






