وہ اٹھا کر آنکھ میں نہ رکھتے تو برتری ہم کسے کہتے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiوہ اٹھا کر آنکھ میں نہ رکھتے تو برتری ہم کسے کہتے
ہر لفظ تیری ثناء نہ کرتا تو شاعری ہم کسے کہتے
وہ گرجاگر کے بُت بنے تو بھی حسرتیں ہاتھ رہیں
اگر تاؤ میں کوئی تمنا نہیں تو بندگی ہم کسے کہتے
اس سفر میں اثر کیسا کہ کوئی درد بھی نہ چبھا کرے
ہر سانس کو کوئی یاد نہ رُلاتی تو دل لگی ہم کسے کہتے
جو قفس کفر نکلا نورُ افشاں نے دھکیلا نہیں
نفس کی کوئی نظر نہ اٹھتی تو کمزوری ہم کسے کہتے
یہ موسم یہ بادل یہ گھنیری گھٹائیں سب صحیح
مگر ہوا کا تصور نہ ہوتا تو دربدری ہم کسے کہتے
رغبت و الجھن میں بھی پیش بینی تو ہے لیکن
درد بہتاب کا عالم نہ ہوتا تو زندگی ہم کسے کہتے
ہر لفظ تیری ثناء نہ کرتا تو شاعری ہم کسے کہتے
وہ گرجاگر کے بُت بنے تو بھی حسرتیں ہاتھ رہیں
اگر تاؤ میں کوئی تمنا نہیں تو بندگی ہم کسے کہتے
اس سفر میں اثر کیسا کہ کوئی درد بھی نہ چبھا کرے
ہر سانس کو کوئی یاد نہ رُلاتی تو دل لگی ہم کسے کہتے
جو قفس کفر نکلا نورُ افشاں نے دھکیلا نہیں
نفس کی کوئی نظر نہ اٹھتی تو کمزوری ہم کسے کہتے
یہ موسم یہ بادل یہ گھنیری گھٹائیں سب صحیح
مگر ہوا کا تصور نہ ہوتا تو دربدری ہم کسے کہتے
رغبت و الجھن میں بھی پیش بینی تو ہے لیکن
درد بہتاب کا عالم نہ ہوتا تو زندگی ہم کسے کہتے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






