وہ اٹھا کر آنکھ میں نہ رکھتے تو برتری ہم کسے کہتے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiوہ اٹھا کر آنکھ میں نہ رکھتے تو برتری ہم کسے کہتے
ہر لفظ تیری ثناء نہ کرتا تو شاعری ہم کسے کہتے
وہ گرجاگر کے بُت بنے تو بھی حسرتیں ہاتھ رہیں
اگر تاؤ میں کوئی تمنا نہیں تو بندگی ہم کسے کہتے
اس سفر میں اثر کیسا کہ کوئی درد بھی نہ چبھا کرے
ہر سانس کو کوئی یاد نہ رُلاتی تو دل لگی ہم کسے کہتے
جو قفس کفر نکلا نورُ افشاں نے دھکیلا نہیں
نفس کی کوئی نظر نہ اٹھتی تو کمزوری ہم کسے کہتے
یہ موسم یہ بادل یہ گھنیری گھٹائیں سب صحیح
مگر ہوا کا تصور نہ ہوتا تو دربدری ہم کسے کہتے
رغبت و الجھن میں بھی پیش بینی تو ہے لیکن
درد بہتاب کا عالم نہ ہوتا تو زندگی ہم کسے کہتے
ہر لفظ تیری ثناء نہ کرتا تو شاعری ہم کسے کہتے
وہ گرجاگر کے بُت بنے تو بھی حسرتیں ہاتھ رہیں
اگر تاؤ میں کوئی تمنا نہیں تو بندگی ہم کسے کہتے
اس سفر میں اثر کیسا کہ کوئی درد بھی نہ چبھا کرے
ہر سانس کو کوئی یاد نہ رُلاتی تو دل لگی ہم کسے کہتے
جو قفس کفر نکلا نورُ افشاں نے دھکیلا نہیں
نفس کی کوئی نظر نہ اٹھتی تو کمزوری ہم کسے کہتے
یہ موسم یہ بادل یہ گھنیری گھٹائیں سب صحیح
مگر ہوا کا تصور نہ ہوتا تو دربدری ہم کسے کہتے
رغبت و الجھن میں بھی پیش بینی تو ہے لیکن
درد بہتاب کا عالم نہ ہوتا تو زندگی ہم کسے کہتے
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا
کسی نے دَرد کو سَڑکوں پہ پھر عُریاں لِکھا ہے
یہ کیسا دَور آیا ہے، یہ کیسا اِمتحاں آیا
کہ ہر سَچ بولنے والے پہ اِک زِنداں لِکھا ہے
نہ ماؤں کی دُعائیں ہیں، نہ بَچّوں کی ہَنسی باقی
فضاؤں نے ہر اِک چہرے پہ اِک طُوفاں لِکھا ہے
کبھی راولاکوٹ رویا، کبھی کوئی نگر رویا
سِتم کی داستاں نے خود کو پھر دہراں لِکھا ہے
یہاں طاقَت کے اِیوانوں میں فیصلے اور ہوتے ہیں
مگر مَحروم لوگوں نے اَلگ فَرمان لِکھا ہے
وہ کہتے ہیں کہ خاموشی ہی اب تَقدیر ہے اَپنی
مگر اہلِ وَفا نے "حَق" کو پھر اِمکاں لِکھا ہے
نہ دَولت سے، نہ قُوَّت سے، نہ تَلواروں کی دھَمکی سے
ضَمیرِ زِندہ نے آزادی کو قُرآں لِکھا ہے
مظہرؔ! وقت گواہی دے گا آنے والی نَسلوں کو
وَفا والوں نے خُون سے آزادی کا ساماں لِکھا ہے






