ایک نظم،ٰٰ پری ہو تُم

Poet: azharm By: Azhar, Doha

پری ہو تُم، سمجھ پاو گی کیسے؟
مری دادی کے قصوں سے نکل کر
پری پیکر تمہارا بن گیا تھا
حسیں چہرہ، بڑی معصوم صورت
حقیقت میں یہ دکھلاو گی کیسے؟
پری ہو تُم، سمجھ پاو گی کیسے؟

مرے بچپن سے لے کر آج تک میں
پرستش ہی کیے جاتا ہوں تیری
تصور کا مرے پیکر خیالی
خیالوں میں سے اب جاو گی کیسے
پری ہو تُم، سمجھ پاو گی کیسے؟

لگاو وہ جو بچپن سے ہوا تھا
محبت بن گیا کب، کچھ خبر ہے؟
سمجھ بھی ہے محبت کی تمہیں کیا
پتہ بھی ہو تو سمجھاو گی کیسے
پری ہو تُم، سمجھ پاو گی کیسے؟

کبھی آٴے نہ کوی تُم کو لینے
پری زادوں سے نفرت سی ہے مجھ کو
پرستاں سے کبھی پیغام آیا
مری خاطر وہ جھٹلاو گی کیسے
پری ہو تُم، سمجھ پاو گی کیسے؟

محبت، جان آدم ذاد کی ہو
پری پہ ڈال بھی دوں جال دل کا
پتہ کیسے چلے گا حال دل کا
محبت ہو بھی جاٴے گر تمہیں تو
یہ بتلاو کہ فرماو گی کیسے
پری ہو تُم، سمجھ پاو گی کیسے؟
 

Rate it:
Views: 767
01 Dec, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL